کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر سندھ حکومت کا بڑا ایکشن متوقع

کراچی (اسٹاف رپورٹر): ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ شہر کے تمام اضلاع میں تعینات افسران کی کارکردگی کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اہم پوسٹنگز اور ٹرانسفرز متوقع ہیں۔

پاکستان نے سری لنکا کو 213 رنز کا ہدف دیا

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل، ایسٹ، ساؤتھ، ویسٹ اور کورنگی میں ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور بلڈنگ انسپکٹرز کی بڑی تعداد کی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں غیر قانونی تعمیرات کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس پر اعلیٰ سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

ڈی جی آفس کی کارکردگی پر سوالات

ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کے موجودہ ڈی جی مظمل حسین کے دفتر کی نگرانی اور کنٹرول کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر میں اضافی منزلیں، بغیر منظوری عمارتیں اور رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات پر اعلیٰ انتظامی سطح کی ذمہ داری سے انکار ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا ڈی جی آفس کو زمینی صورتحال سے لاعلم رکھا گیا یا رپورٹنگ کے نظام میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔

صرف تبادلے نہیں بلکہ احتساب بھی

ذرائع کے مطابق حکومت اس معاملے میں صرف افسران کے تبادلے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ محکمانہ انکوائری، ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور مشکوک منظوریوں کے آڈٹ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ بعض افسران کے خلاف معطلی یا تادیبی کارروائی بھی زیر غور ہے، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں غیر قانونی تعمیرات کی شکایات زیادہ آئیں۔

وزیر بلدیات کے اصلاحاتی اقدامات

ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے ایس بی سی اے کو فعال اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی اور گنجان آبادی والے علاقوں میں ڈرون سروے متوقع ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایس بی سی اے کی سنگل ونڈو سہولت کو تمام ریجنز تک وسعت دی جائے گی، ہزاروں پرانی فائلوں اور منظوری ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ہوگی اور کیٹگری ٹو اور تھری عمارتوں کی آن لائن منظوری کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

اربوں روپے کا غیر قانونی کاروبار

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی تعمیرات شہر میں ایک منظم نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جہاں منظوری سے پہلے غیر رسمی معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ سیل کی گئی عمارتوں کو دوبارہ کھولنے کے معاملات بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کی توقعات

ذرائع کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی کارروائی صرف تبادلوں تک محدود رہی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر مکمل قابو پایا جا سکے۔

69 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر سندھ حکومت کا بڑا ایکشن متوقع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!