امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔
سعودی عرب کی ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی کا اعلان
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے کچھ دیر قبل ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے بقول امریکا ایران کے میزائل نظام، میزائل انڈسٹری اور بحریہ کو نشانہ بنا رہا ہے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرنڈر کی صورت میں ان کے ساتھ مکمل استثنیٰ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مشترکہ طور پر ایران کے مختلف شہروں پر میزائل اور فضائی حملے جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز، قم اور کرج کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تہران میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
ایرانی حکام نے حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں اور سخت ترین ردعمل کی وارننگ دی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس کارروائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔
