لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کے زمینوں پر قبضے سے متعلق تمام فیصلے کالعدم

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ قوانین کے تحت قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) کے زمینوں پر قبضے دلوانے سے متعلق تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے کمیٹیوں کی کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستیں متعلقہ ٹربیونل کو منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کے جائیدادوں سے متعلق پہلے سے جاری فیصلے برقرار رہیں گے۔
سندھ میں خواتین و بچیوں کے خلاف زیادتی اور قتل: وکلاء و سول سوسائٹی نے فوری انصاف اور عدالتی اقدامات کا مطالبہ کر دیا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ قانون میں وسیع پیمانے پر ترامیم کی جا چکی ہیں، اس لیے تمام درخواستوں کو نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت ٹربیونل سنے اور قانون کے مطابق فیصلے کرے۔ عدالت نے کہا کہ قانون میں تقریباً 80 فیصد تبدیلیاں کی گئی ہیں، لہٰذا موجودہ درخواستوں کا جائزہ نئے قانونی ڈھانچے کے تحت لیا جانا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے پاس اب جوڈیشل اختیارات نہیں ہوں گے، جبکہ ٹربیونل میں ریٹائرڈ جج کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زیرِ سماعت مقدمات کو ٹربیونل منتقل کرنے کا فیصلہ متعلقہ عدالت کی صوابدید پر ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف آئینی عدالتوں، بشمول سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ، سے رجوع کیا جا سکے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پنجاب میں جائیدادوں کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور آئندہ ایسے مقدمات کے لیے واضح قانونی راستہ فراہم کرے گا۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کے زمینوں پر قبضے سے متعلق تمام فیصلے کالعدم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!