سندھ میں خواتین و بچیوں کے خلاف زیادتی اور قتل: وکلاء و سول سوسائٹی نے فوری انصاف اور عدالتی اقدامات کا مطالبہ کر دیا

کراچی : سندھ کی خواتین وکلاء اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے نئے سال کے آغاز سے سندھ میں خواتین اور کم سن بچیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی، قتل اور اغوا کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آسیہ کھوسو، سارہ بلوچ، صابرہ پٹھان اور دیگر متاثرہ خواتین و بچیوں کے مقدمات دو ہفتوں کے اندر عدالتوں میں مکمل کیے جائیں اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آفاق احمد: گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات مشکوک، آزاد کمیشن کے قیام کی ضرورت

سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں خواتین کے لیے الگ پولیس اسٹیشن بنانے، پولیس میں خواتین اہلکاروں کی بھرتی بڑھانے، متاثرہ خواتین کے میڈیکل چیک اپ میں تاخیر نہ کرنے اور میڈیکل لیگل افسران کی تعداد بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ٹھل اور میرپورخاص میں خواتین سے زیادتی کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر کے سزائیں دینے پر زور دیا گیا۔

سندھ ویمن لائرز الائنس کے زیر اہتمام "خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں انصاف کے تقاضے اور سول سوسائٹی کی خاموشی” کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں چیئرپرسن شازیہ نظامانی نے کہا کہ ٹھل، چوٹیارو ڈیم، میرپورخاص، جیکب آباد، جامشورو اور دیگر علاقوں میں زیادتی اور قتل کے واقعات پر معاشرتی خاموشی بھی ایک المیہ ہے۔

وکلاء نے مطالبہ کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جنوری اور فروری میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کے خلاف عدالتی کمیشن تشکیل دیں۔ سیمی کمال، روبینہ چانڈیو اور صفیہ لاکو سمیت دیگر وکلاء نے کہا کہ عدالتوں میں خواتین وکلاء کے ساتھ امتیازی رویہ ختم کیا جائے، پولیس کے مظالم بند کیے جائیں اور ججز کو خواتین کے حقوق اور قوانین کے بارے میں تربیت دی جائے۔

مقررین نے کہا کہ اگر متاثرہ خواتین کے مقدمات میں بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مزید کیسز میں انصاف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا اور سول سوسائٹی اور اراکین اسمبلی کو اپنی خاموشی توڑ کر احتجاجی اقدامات کرنا چاہیے۔

WhatsApp Image 2026 02 22 at 9.47.59 PM 1 WhatsApp Image 2026 02 22 at 9.47.59 PM 2 WhatsApp Image 2026 02 22 at 9.47.59 PM 3

60 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!