کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ Saeed Ghani نے کہا ہے کہ سندھ کے سماجی تحفظ کے ماڈل کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت کا فلیگ شپ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام ’’ممتا‘‘ نئے سنگ میل عبور کر چکا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے World Bank کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ٹاسک ٹیم لیڈر Sohail Saeed Abbasi اور شریک ٹی ٹی ایل Amina Khan کر رہے تھے۔
ورلڈ بینک وفد نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ ادارے کے اسٹریٹجک جائزے میں سندھ حکومت کو اپنے فلیگ شپ ’’مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام‘‘ ممتا کی غیر معمولی پیش رفت پر سراہا گیا ہے۔ یہ پروگرام سندھ میں سوشل پروٹیکشن ڈیلیوری سسٹم کو مضبوط بنانے (SSPDSS) کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے، جو مالی معاونت کو صحت کی دیکھ بھال کے اہم نتائج سے مؤثر طور پر جوڑ رہا ہے۔
سعید غنی نے بتایا کہ ممتا پروگرام کے تحت اب تک 9 لاکھ 55 ہزار سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں (PLWs) کو باضابطہ امدادی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے، جس سے صوبہ 15 اضلاع میں مقررہ 13 لاکھ مستفیدین کے ابتدائی ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے منفرد ’’کیش فار ہیلتھ‘‘ ماڈل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور رجسٹرڈ مستفیدین نے مقامی صحت سہولیات میں 43 لاکھ سے زائد ہسپتال وزٹس مکمل کیے، جو صحت کے حوالے سے عوامی رویوں میں بڑی تبدیلی کا مظہر ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق PPHI Sindh کے زیر انتظام اسپتالوں میں صحت کی سہولیات کے استعمال میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ یہ پروگرام پی پی ایچ آئی سندھ اور محکمہ صحت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے 824 صحت مراکز سے مستفید ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی مرحلے کی کامیابی کے بعد سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (SSPA) پروگرام کو مزید 7 اضلاع تک توسیع دے رہی ہے، جس کے بعد مجموعی رسائی 22 اضلاع تک پہنچ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا حتمی ہدف 25 لاکھ ماؤں کا اندراج اور انہیں مالی و طبی سہولیات کی فراہمی ہے تاکہ مالی بااختیاریت اور زچگی کی صحت کو یکجا کیا جا سکے۔
ورلڈ بینک وفد نے رجسٹریشن کے عمل کی ڈیجیٹل تبدیلی کو دیگر خطوں کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ادائیگیوں کا نظام شفاف اور مؤثر ہوا ہے اور کمزور طبقات کے لیے رکاوٹیں کم ہوئی ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ورلڈ بینک نے سندھ حکومت کو مسلسل تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صحت کی لازمی تعمیل کو سہ ماہی مالی فوائد سے جوڑ کر سندھ انسانی سرمائے کی ترقی میں ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے۔
