وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھینس کالونی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھینس کالونی فلائی اوور بننے سے ریلوے کراسنگ پر ہونے والے حادثات ختم ہوں گے اور شہریوں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے عظیم پورہ کے لیے میئر کراچی کو 100 دن کے اندر فلائی اوور بنانے کا ٹاسک دیا۔
نارتھ کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، تین بھتہ خور و ٹارگٹ کلرز گرفتار
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اگلے 4 سے 6 ہفتے میں شاہراہ بھٹو کو قیوم آباد سے کاٹھوڑ تک مکمل کر دیا جائے گا اور پورٹ تک شاہراہ بھٹو کا سنگ بنیاد جلد رکھا جائے گا۔ مرغی خانہ برج بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال کراچی میں 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ کے ایم سی کے منظور شدہ فنڈز کے لیے 8 سے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کام کرتے ہیں لیکن اپنے کاموں کی تشہیر نہیں کرتے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن کام وفاقی کمپنی کے ذریعے کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت جو کراچی میں کام کر رہی ہے وہ سندھ حکومت کو فنڈز نہ دے کر ٹاؤنز کو دے رہی ہے، جس پر وہ احتجاج کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام سندھ صوبے سے محبت کرتے ہیں اور اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ پی آئی ڈی سی ایل کو ختم کرے اور یونین کونسلز کو فنڈز دے تاکہ وہ ترقیاتی کام کر سکیں۔ انہوں نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور چھوٹی سڑکوں پر بڑی عمارتیں بنانے کے اقدامات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
