اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکلا کی ملاقات کے معاملے پر آج بھی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔
آن لائن جوا پروموشن کیس: یوٹیوبر ڈکی بھائی اور اہلیہ سمیت ملزمان پر فردِ جرم عائد
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ عمران خان کی جیل میں موجودہ صورتحال سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ عدالتی حکم کی تعمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو ملاقات کی یقین دہانی کرا دی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت میں 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ یہ رپورٹ بانی پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے۔ اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور شکایت کی کہ انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس حوالے سے آرڈر جاری کر چکی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کی سماعت میں سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی اور قرار دیا تھا کہ دوسرے فریق کو سنے بغیر کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے، اور وہ عدالتی حکم کے مطابق آج دوپہر 2 بجے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔
