اسلام آباد کی نصف سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات ناکافی ہونے کا انکشاف

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عمارتوں کی فائر سیفٹی سے متعلق تشویشناک صورتحال سامنے آ گئی ہے، جہاں 50 فیصد سے زائد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات مکمل نہیں پائے گئے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں ہائی رائز عمارتوں کا ابتدائی سروے مکمل کیا، جس میں 15 میٹر سے زائد اونچی عمارتوں کو ہائی رائز کیٹیگری میں شمار کیا گیا۔

قومی کھیل 2025ء: بیڈمنٹن ایونٹ میں سندھ پولیس کے کھلاڑیوں کی شاندار کامیابی، کانسی کے تمغے حاصل

سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 500 سے زائد ہائی رائز عمارتیں موجود ہیں، تاہم ان میں سے نصف سے زائد عمارتیں فائر سیفٹی کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی دونوں نوعیت کی عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں پائی گئیں، جبکہ فائر الارم، فائر ایکسٹنگوئشر اور فائر ہوز ریل جیسے بنیادی حفاظتی آلات کی عدم موجودگی یا ناقص حالت سامنے آئی۔

ذرائع کے مطابق ریڈ زون میں واقع متعدد ہائی رائز عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی آلات نامکمل ہیں، جبکہ فیڈرل سیکرٹریٹ کے کئی بلاکس میں فائر الارم اور آگ بجھانے کے دیگر آلات موجود نہیں۔ اسی طرح کراچی کمپنی کے علاقے میں واقع ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ایف 11، ایف 10، جی 13، جی 14 اور گولڑہ موڑ کے علاقوں میں قائم عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات غیر مؤثر پائے گئے، جبکہ صرف بلیو ایریا کی چند ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سی ڈی اے کا بلڈنگ کنٹرول سیکشن ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ پڑتال کا ذمہ دار ہے، تاہم حالیہ انکشافات نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

54 / 100 SEO Score

One thought on “اسلام آباد کی نصف سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات ناکافی ہونے کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!