گلشنِ ٹاؤن 2: غیر قانونی تعمیرات کا منظم نیٹ ورک، سرکاری خاموشی اور انسانی جانوں کو لاحق سنگین خطرات

کراچی (رپورٹ) کراچی کے ضلع شرقی کے علاقے گلشنِ ٹاؤن 2 میں غیر قانونی تعمیرات اب محض چند عمارتوں یا افراد تک محدود مسئلہ نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک منظم اور مربوط نظام کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جہاں قوانین کو دانستہ طور پر نظرانداز اور انسانی جانوں کو منافع کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان پولیس اسپورٹس بورڈ کا اہم اجلاس، پولیس گیمز کی انعامی رقوم میں بڑا اضافہ، نئی اسپورٹس پالیسی پر غور

محمد علی سوسائٹی، داؤد سی ایچ ایس، مقبول آباد، سی پی بیئرر سوسائٹی، بی ایم سی ایچ ایس اور بہادرآباد سمیت مختلف علاقوں میں درجنوں رہائشی پلاٹس کو غیر قانونی طور پر کمرشل استعمال میں لایا جا چکا ہے۔ متعدد عمارتیں منظور شدہ نقشوں کے برخلاف تعمیر کی گئیں، جن میں اضافی منزلیں، غیر قانونی پورشنز اور بیسمنٹس بنا کر فروخت یا کرائے پر دیے جا رہے ہیں، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔

غیر قانونی تعمیرات کو قانونی شکل دینے کا طریقہ

ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے، جس کے تحت رہائشی پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کا آغاز کیا جاتا ہے، بلڈنگ میپ میں دانستہ غلطیاں رکھی جاتی ہیں، فیلڈ اسٹاف کی خاموش منظوری حاصل کی جاتی ہے، شکایت کی صورت میں معاملات کو سیٹل کیا جاتا ہے اور بالآخر ریگولرائزیشن کی راہ ہموار کر دی جاتی ہے۔

ایس بی سی اے فیلڈ افسران پر سنگین الزامات

تحقیقات کے مطابق گلشنِ ٹاؤن 2 میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، SBI اور BI افسران پر الزام ہے کہ ہر غیر قانونی پورشن اور اضافی فلور کے عوض مقررہ رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ اسی مبینہ ریکوری سسٹم کے باعث نہ تو عمارتیں سیل کی جاتی ہیں اور نہ ہی مسماری کی کارروائیاں عمل میں آتی ہیں۔

فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیاں

اکثر عمارتوں میں فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں یا غیر فعال ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں کسی بھی آگ یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں بڑے جانی نقصان کا خطرہ موجود ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات

ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی اور دیگر متعلقہ اداروں کی خاموشی نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

گل پلازہ جیسے سانحات سے سبق کیوں نہ سیکھا گیا؟

ماضی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے باوجود نہ تو نگرانی کا نظام مؤثر بنایا گیا اور نہ ہی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے، جس سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایسے سانحات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔

عوامی مطالبات

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گلشنِ ٹاؤن 2 میں فوری گرینڈ آپریشن کیا جائے، تمام غیر قانونی تعمیرات سیل اور مسمار کی جائیں، ملوث افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوں اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

حتمی سوال یہ ہے کہ اگر آج بھی یہ نظام نہ توڑا گیا تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟

70 / 100 SEO Score

One thought on “گلشنِ ٹاؤن 2: غیر قانونی تعمیرات کا منظم نیٹ ورک، سرکاری خاموشی اور انسانی جانوں کو لاحق سنگین خطرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!