بنگلہ دیش میں اردو سنیما سے وابستہ معروف اداکار اور ڈائریکٹر الیاس جاوید طویل علالت کے بعد بدھ کے روز 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے اردو سنیما کے شائقین اور فلمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ورلڈ کپ وینیو پر تنازع، بنگلہ دیش کا بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کھیلنے سے انکار
خاندانی ذرائع کے مطابق الیاس جاوید نے ڈھاکا کے علاقے اُتارا میں واقع ایک اسپتال میں آخری سانس لی، جہاں وہ کینسر کے طویل علاج کے باعث زیر علاج تھے۔ ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ ڈولی چودھری نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
الیاس جاوید کا شمار اردو فلمی دنیا کی نمایاں شخصیات میں ہوتا تھا، جو مشرقی پاکستان کے سنہری دور میں بنگلہ دیش میں اردو فلموں کے مقبول چہرے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں بطور ڈانس ڈائریکٹر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، بعد ازاں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور 1964 میں اردو فلم ’نئی زندگی‘ سے بطور اداکار شہرت حاصل کی۔
انہوں نے بنگالی فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور بنگلہ دیش کی فلمی صنعت میں ایک اہم ثقافتی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کو اردو سنیما کے ایک عہد کے خاتمے سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جہاں وہ طویل عرصے تک فلمی شائقین کے لیے ایک معتبر اور یادگار نام رہے۔
