حوصلے، یقین اور مستقل مزاجی کی جیت: زہران ممدانی کی کامیابی ایک مثال

ہوا کے ساتھ نہ چلنے والے ہی تاریخ کا رخ بدلتے ہیں۔ جو آزمائش کی راکھ سے گزر کر کندن بن جائیں، جو تمسخر اور ہنسی کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی قوت بنا لیں، وہی سچے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالتے ہیں۔ گلیوں میں جنم لینے والی ایک آہٹ جب زمانے کی گرج بن جائے، تو بے اعتنائی برتنے والے انتظار کی قطار میں آ کھڑے ہوتے ہیں اور نظر انداز کرنے والوں کی نظریں ہٹنے کا نام نہیں لیتیں۔

بنگلہ دیش کے معروف اردو فلمی اداکار و ڈائریکٹر الیاس جاوید 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

یہ سب محض خیال نہیں، یہ ممکن ہے—اور زہران ممدانی نے اسے ممکن کر دکھایا ہے۔ وہ جب چلا تو شہر میں کوئی اس کے ساتھ نہ تھا۔ اس کی باتوں کو ہنسی میں اڑایا گیا، خیالات کو خواب سمجھ کر رد کر دیا گیا۔ لوگ نہ رکنے کو تیار تھے، نہ سننے کو۔ مگر وقت نے منظر بدل دیا۔ چشمِ فلک نے وہ دن بھی دیکھا جب تمسخر اڑانے والے تالیاں بجاتے نظر آئے اور نظر انداز کرنے والے قطار میں کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرتے دکھائی دیے۔

مذہب اس کے لیے دیوار نہیں، دروازہ بن گیا۔ اس نے اسلاموفوبیا پر ڈنکے کی چوٹ پر بات کی۔ پہلے لوگ سہمے، پھر دلوں سے آواز آئی کہ شکر ہے کوئی تو بولا۔ مسجد کی اذان، چرچ اور مندروں کی گھنٹیاں اور یہودی عبادت گاہوں کے مقلد—سب اس کے ہم نوا بن گئے۔ وہ بولا، ڈٹ کر بولا، گرج کر بولا—مودی کے خلاف، نیتن یاہو کے خلاف اور سب سے بڑھ کر اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے ساتھی طبقۂ اشرافیہ کے خلاف۔

زہران نوجوانوں کی آواز بن گیا—صرف آواز نہیں، ان کے دلوں کی دھڑکن۔ اس نے ان کی دلی خواہشات کو زبان دی۔ انہیں اس میں اپنا عکس دکھائی دینے لگا۔ نیویارک کے پرانے باسی بھی نئی امید کے ساتھ اس کے ہم سفر بن گئے۔ اس نے کہا کہ شہر عمارتوں کا نام نہیں، ان عمارتوں میں اینٹیں اٹھانے اور لگانے والوں کا نام ہے۔ مشینری شناخت نہیں، مشین چلانے والے اصل ہیرو ہیں۔ فیصلہ امیروں نے نہیں، اس شہر کے غریبوں اور اسٹیک ہولڈرز نے کرنا ہے—اور پھر فیصلہ ہو گیا۔

نظام اور جمہوریت کی خوبصورتی دیکھیے کہ نہ کسی محکمے کو متحرک ہونا پڑا، نہ ہتھکنڈے آزمائے گئے، نہ قومی مفاد کی آڑ لی گئی اور نہ نظریۂ ضرورت سامنے آیا۔ نہ کسی فارم کی گونج سنائی دی، نہ غداری کے تمغے بانٹے گئے۔ نہ مذہبی جذبات مجروح ہوئے، نہ مقدمات قائم ہوئے۔ یوں ممدانی جیت گیا—زمانے کے لیے ایک نئی روشنی، ایک نئی امید کہ طویل سکوت ٹوٹ بھی سکتا ہے، اگر حوصلہ، یقین اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔

54 / 100 SEO Score

One thought on “حوصلے، یقین اور مستقل مزاجی کی جیت: زہران ممدانی کی کامیابی ایک مثال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!