کراچی: شہر کے قدیم اور انتہائی گنجان آباد علاقے اولڈ سٹی ایریا، یو سی سیون، صدر ٹاؤن میں واقع کراچی پلاسٹک مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ شدید خطرات کی لپیٹ میں آچکے ہیں، جہاں بجلی کی لٹکتی، الجھی ہوئی اور خستہ حال تاریں کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لیے آرٹس کونسل کراچی میں دعائیہ تقریب، صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت کی شرکت
خصوصی طور پر کراچی پلاسٹک مارکیٹ کے عقب نیو نہال روڈ پر واقع کراچی سینٹر اور مرکنٹائن سینٹر کی صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان عمارتوں کے گرد بجلی کی تاروں کا جال پھیلا ہوا ہے جو معمولی شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کی صورت میں گل پلازہ جیسے ہولناک سانحے کو جنم دے سکتا ہے۔
مرکنٹائن سینٹر کی عمارت شدید خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں دیواروں میں دراڑیں، کمزور چھتیں اور ناقص انفراسٹرکچر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ان عمارتوں میں روزانہ سینکڑوں تاجر، مزدور اور خریدار آتے جاتے ہیں، جس کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بڑے جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ اداروں، بلدیہ اور کے الیکٹرک کو صورتحال سے آگاہ کیا جا چکا ہے، مگر تاحال کوئی عملی اور مؤثر اقدام سامنے نہیں آیا۔ شہریوں کا سوال ہے کہ کیا انتظامیہ کسی بڑے سانحے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟
شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اور کے الیکٹرک کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطرناک بجلی کی تاروں کو فوری طور پر درست یا زیرِ زمین منتقل کیا جائے، خستہ حال عمارتوں کا ہنگامی سروے کیا جائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ خدانخواستہ اگر کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور ناہل حکام پر عائد ہوگی۔


