اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سے متعلق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
راولپنڈی کی 163 ہائی رائز عمارتیں فائر سیفٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ، صرف ایک عمارت محفوظ قرار
پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کے لیے حکومت گزشتہ ساڑھے تین برس سے کوششیں کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 21 اگست 2022 کو پی ٹی اے نے پہلی مرتبہ ایکس کو عمران خان کا اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے خط لکھا، جبکہ بعد ازاں توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے 18 اپریل 2024 کو بھی درخواست ارسال کی گئی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کو عمران خان کی 47 ٹوئٹس بلاک کرنے کے لیے ایکس کو خط لکھا گیا۔ ساڑھے تین سال کے دوران پی ٹی اے نے مجموعی طور پر تین مرتبہ ایکس کو خطوط ارسال کیے، تاہم ایکس نے ان میں سے بیشتر درخواستیں مسترد کر دیں۔ 27 نومبر 2025 کی درخواست میں شامل 47 ٹوئٹس میں سے صرف ایک ٹوئٹ بلاک کی گئی۔
پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن اور فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایات دی گئیں، تاہم بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نہ تو پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی مقامی فوکل پرسن مقرر کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں عموماً اپنے ممالک کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور دیگر ممالک کے قوانین کو خود پر لاگو نہیں سمجھتیں۔ اسی بنیاد پر یہ کمپنیاں بیرونی ممالک سے موصول ہونے والی شکایات کو بھی اپنے داخلی قوانین اور پالیسیز کے مطابق ہی دیکھتی ہیں۔
