اسلام آباد: قائداعظم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم فاطمہ نے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرنشپ 2026 کے طلبہ سے سٹریٹیجک کمیونیکیشن اور نیریٹو کنسٹرکشن پر تفصیلی گفتگو کی۔
خیبرپختونخوا نیشنل ورکشاپ کے شرکاء کی ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ خصوصی نشست
ڈاکٹر مریم فاطمہ نے کہا کہ بحیثیت پاکستانی ہر پیغام اور بیان قومی مفاد میں ہونا چاہیے۔ پاکستان ہندوستان کی دہشت گردی اور بیانیہ سازی کا شکار رہا ہے، جس میں اسے غیر مستحکم اور دہشت گرد سہولت کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیریٹو وہ مواد ہے جو آپ تخلیق کرتے ہیں، اور سٹریٹیجک کمیونیکیشن اسے مؤثر طریقے سے پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ دشمن کے بیانیے کا جواب دینے کے لیے معلومات کی جانچ اور حقیقت پر مبنی بیانیہ نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر مریم فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان جب بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں تو یہ ہر قدم ایک قومی پیغام کے مترادف ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غلط معلومات اور دشمن کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مستند، مثبت اور مؤثر بیانیہ تخلیق کرنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔