امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایئروسپیس ڈیفنس کمانڈ (نوراڈ) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کی نئی کھیپ جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچ جائے گی۔
سانحہ گل پلازہ نے سندھ حکومت کی کارکردگی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا، مفتی منیب الرحمان
نوراڈ کے مطابق اس پیش رفت سے گرین لینڈ کی حکومت کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی طیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے ڈنمارک حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ دفاعی ادارے نے واضح کیا کہ امریکی فورسز نے اس سلسلے میں تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل کر لیے ہیں۔
نوراڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقائی دفاع اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں امریکا، کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان قریبی تعاون شامل ہے۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عزم کیا تھا۔ بعد ازاں 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے آغاز پر نوراڈ کے نام سے مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور دفاعی ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔
