سانحہ گل پلازہ: آگ لگنے کی وجوہات اور ریسکیو کارروائی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

کراچی: چیف فائر آفیسر نے گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ سے متعلق تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس نے سالِ نو کے آغاز پر شہر کو ایک بڑے سانحے سے دوچار کر دیا۔ شہر کے معروف شاپنگ سینٹر میں اچانک بھڑکنے والی آگ کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔

پاکستان فضائیہ کا ایف-16 دستہ کثیر ملکی فضائی مشقوں میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

چیف فائر آفیسر کے مطابق ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی ایک دکان میں آگ بھڑکی، جبکہ 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو واقعے کی اطلاع دی گئی۔ 10 بج کر 57 منٹ پر ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں، تاہم یہ راستے انتہائی تنگ ہونے کے باعث آگ بجھانے کے عمل میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستے دھوئیں سے بھر چکے تھے، جس سے ریسکیو سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ بجھانے کے دوران 2 سے 3 گھنٹوں بعد پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ پانی لانے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام میں پھنس گئے، جبکہ ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث صورتحال پر قابو پانے میں مزید تاخیر ہوئی۔ آگ پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے تین مختلف حصوں سے ڈھانچہ گر چکا ہے اور پلازہ اب مخدوش حالت میں ہے۔ اس وقت بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹر باؤزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں۔ گل پلازہ میں آگ پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم عمارت کے اندر موجود سامان کے تقریباً 10 فیصد حصے میں اب بھی آگ موجود ہے۔ رات گئے تک گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں کی آگ بجھا دی گئی تھی۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “سانحہ گل پلازہ: آگ لگنے کی وجوہات اور ریسکیو کارروائی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!