اسرائیل نے غزہ میں مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے اسرائیل سے کوئی مشاورت یا رابطہ نہیں کیا گیا۔
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، ویزا فراڈ اور مائیگرنٹ اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے دو ملزمان گرفتار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سامنے اٹھائیں گے اور اسرائیل کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی انتظامی یا سیاسی اقدام میں اسرائیل کو نظرانداز کرنا قابل قبول نہیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے مطابق بورڈ کا مقصد غزہ میں سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرنا شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس بورڈ کو مسترد کرنا خطے میں سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ سے متعلق پالیسی اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
