پاک امریکا سکیورٹی تعاون میں توسیع پر اتفاق، بارڈر سکیورٹی اور اداروں کو جدید امریکی آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ

امریکا اور پاکستان نے دوطرفہ سکیورٹی تعاون اور بارڈر مینجمنٹ میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی، کوسٹل گارڈز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید امریکی آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیل کا غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل مسترد، امریکی منصوبے پر تحفظات کا اظہار

یہ فیصلہ ہفتے کے روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، مشترکہ مفادات اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔

ملاقات میں دوطرفہ سکیورٹی تعاون، بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مؤثر بنانے اور امریکی ادارے اینٹی ٹیررسٹ اسسٹنٹس پروگرام کے ساتھ جاری تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دینے اور مستقبل میں ہر سطح پر تعاون کے لیے مؤثر کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

گفتگو کے دوران ایف آئی اے، فیڈرل کانسٹیبلری اور سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ امریکا کے تعاون سے ایف آئی اے میں سینٹر فار ٹرانسفارمیشن کرائم اور اکیڈمی کے قیام کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ بیرونِ ملک جرائم میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا، جس سے جرائم کے تدارک اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “پاک امریکا سکیورٹی تعاون میں توسیع پر اتفاق، بارڈر سکیورٹی اور اداروں کو جدید امریکی آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!