وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ (پی اینڈ ڈی) کی ٹیم نے ملیر ندی پر زیرِ تعمیر پل کا تفصیلی دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ کے احکامات کے تحت قائدآباد میں این فائیو (مرغی خانہ) پل کا بھی معائنہ کیا گیا۔ پی اینڈ ڈی کی ٹیم میں انجینئر اورنگزیب وستڑو اور انجینئر عمران میمن شامل تھے۔
فتح پارک نارتھ ناظم آباد سے اغواء ہونے والا تین سالہ بچہ محمد انس بحفاظت بازیاب
دورے کے دوران ملیر ندی پل منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت، معیار اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق ملیر ندی پل منصوبے کی مجموعی لاگت 3006.690 ملین روپے مقرر ہے جبکہ منصوبے کی فزیکل پیش رفت 65 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ اب تک منصوبے پر 61.6 فیصد مالی اخراجات بھی کیے جا چکے ہیں۔
پی اینڈ ڈی اور ایم ای سی ٹیم نے کنکریٹ کی مضبوطی جانچنے کے لیے نان ڈسٹرکٹیو ٹیسٹ کیے جبکہ گرڈرز اور ٹرانسم کے سائز کی پیمائش بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبے پر کام کی رفتار اطمینان بخش ہے اور معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح ہدایت دی کہ ترقیاتی کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پل منصوبے کی تکمیل مئی 2026 تک یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ مٹیریل کی بروقت دستیابی سے منصوبہ مقررہ وقت سے قبل مکمل کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کے-الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت دی۔ مزید برآں، ریمپس کے لیے بجری اور ایگریگیٹ بیس کا اسٹاک فوری طور پر تیار اور یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
