تعلیم اور تربیت کے معاملے میں اساتذہ مہارت رکھتے ہیں، مگر اپنے بچوں کے بارے میں والدین سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ اس لیے والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بارے میں ایسی معلومات ٹیچر کو فراہم کریں جو اسکول میں ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
ضلع دادو میں پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم، آئی جی سندھ کا انکوائری کا اعلان
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔ نئے اسکول میں داخلے کے وقت والدین کا ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے تاکہ ٹیچر یہ سمجھ سکیں کہ بچے کو کس قسم کی رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہے۔
والدین کو بچوں سے متعلق ٹیچر کو درج ذیل اہم معلومات فراہم کرنی چاہئیں:
صحت کے مسائل اور خاص حالات:
اگر بچے کو کسی قسم کی صحت سے متعلق مشکلات ہیں تو کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی اگر بچے کو خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس کا بھی ذکر کریں۔
گھریلو مسائل:
اگر گھریلو حالات بچے کے رویوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو ٹیچر کو آگاہ کرنا لازمی ہے۔ چاہے بچہ خود صورتحال کو سنبھال رہا ہو، لیکن اسکول انتظامیہ کو مطلع کرنا ضروری ہے۔
بچے کی شخصیت:
ہر بچے کی شخصیت منفرد ہوتی ہے۔ اگر ٹیچر پہلے سے بچے کی شخصیت کے بارے میں جانتا ہوگا تو وہ مناسب رہنمائی اور مدد فراہم کر سکتا ہے۔
طاقت اور کمزوری کے پہلو:
والدین کو یہ معلومات دینا چاہیے کہ بچہ کس مضمون میں مضبوط ہے اور کس میں کمزور۔ مثال کے طور پر، کوئی بچہ ریاضی میں ماہر ہو سکتا ہے لیکن انگریزی میں مشکلات محسوس کر رہا ہو۔
سیکھنے کے طریقے:
والدین بچے کے ابتدائی تربیتی تجربات کی بنیاد پر بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے بچے کو کس طریقے سے سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ چاہے وہ ہینڈ ایکٹیوٹی کے ذریعے ہو یا ویڈیوز کے ذریعے، اس بات سے ٹیچر کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
دلچسپی کے شعبے:
بچے کے پسندیدہ مشاغل، جیسے پینٹنگ یا کسی فن میں مہارت، کے بارے میں ٹیچر کو آگاہ کریں۔ یہ معلومات ٹیچر کو اسکول میں ایسے مواقع فراہم کرنے میں مدد دے گی جہاں بچہ اپنے دلچسپی کے مطابق ترقی کر سکے۔
