امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی موجودہ قیادت کو تعاون نہ کرنے کی صورت میں ایک اور فوجی کارروائی کی کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ملک کا کنٹرول سنبھال کر بعد میں انتخابات کرائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا پولیس افسران و جوانوں سے خطاب، جرائم کے خاتمے، اصلاحات اور عوامی خدمت پر زور
ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے لاطینی امریکا میں امریکی فوجی مداخلت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “آپریشن کولمبیا” انہیں پسند ہے۔
انہوں نے وینزویلا کے قریبی اتحادی کیوبا کے حوالے سے کہا کہ کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام یہ ملک خود ہی زوال کے قریب ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عملی طور پر امریکا ہی ملک کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے، تاہم واشنگٹن نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔
صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھا جائے کہ وینزویلا میں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ “ہم انچارج ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی نہ تیل کے لیے ہے اور نہ ہی صرف حکومت کی تبدیلی کے لیے، بلکہ ان کے بقول مقصد “زمین پر امن” قائم کرنا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وینزویلا میں فوری انتخابات نہیں ہوں گے، پہلے امریکا ملک کو سنبھالے گا، نظام درست کرے گا اور پھر مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک تباہ حال ملک ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی عبوری قیادت نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی ڈھانچے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ امریکی اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔ ان کی گرفتاری نے وینزویلا کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ مادورو حکومت نے اس اقدام کو اغوا قرار دیا ہے۔ مادورو کی ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر کو پاناما پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکا میں سب سے متنازع امریکی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
