خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں سیمنٹ فیکٹری کے کارکنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے۔
ٹرمپ کی وینزویلا کو فوجی کارروائی کی دھمکی امریکا کے کنٹرول اور بعد ازاں انتخابات کا اعلان
پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ لکی سٹی کی حدود میں بگوخیل روڈ پر نواردہ خیل کے قریب پیش آیا، جہاں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے سیمنٹ فیکٹری جانے والی بس پر دھماکا کیا۔ ضلع پولیس کے ترجمان قدرت اللہ نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ ریاست کی جانب سے “فتنہ الخوارج” کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود 2025 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے مطابق 2025 میں دہشت گرد حملوں میں سال بہ سال 34 فیصد جبکہ دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں کم از کم 1034 افراد جاں بحق اور 1366 زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ اتوار کو بھی خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور بنوں میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس کے تین اہلکاروں سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، جس سے صوبے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
