کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 74 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔
آئی سی سی نے چوتھے ایشیز ٹیسٹ کی ایم سی جی پچ کو ناقص قرار دے دیا
کاروبار کے ابتدائی سیشن میں سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری کے باعث انڈیکس ایک موقع پر 174,411 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا، تاہم بعد ازاں تیزی میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری کا رجحان رہا۔
اے آر ایل، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایچ بی ایل، میزان بینک اور ایم سی بی کے حصص بھی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
بعد ازاں منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث انڈیکس دن کے دوران کم ہو کر 173,200 پوائنٹس تک آ گیا، تاہم دوبارہ خریداری کے رجحان سے مارکیٹ نے جلد ہی نقصان کا ازالہ کر لیا اور باقی سیشن کے دوران محدود دائرے میں کاروبار جاری رہا۔
کاروباری دن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,495.61 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے کے ساتھ 173,896 پوائنٹس پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ تاریخی سطح پر بند ہوئی تھی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 172,400 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی پیر کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ آئندہ سال امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کے باعث ڈالر تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
