لندن: لندن ہائی کورٹ نے یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کو بدنام کرنے کے الزامات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ عدالت نے عادل راجہ کے لیے دو وارننگز بھی جاری کی ہیں اور کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا، جس کے نتیجے میں جرمانہ، جیل کی سزا یا اثاثے ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
نیپا واقعہ کے بعد پولیس الرٹ، گٹر کا ڈھکن چوری کرنے والے ملزم گرفتار
عادل راجہ نے عدالت کے فیصلے کا خلاصہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹ پر شائع کیا اور ساتھ ہی واضح کیا کہ راشد نصیر کے خلاف الزامات کا کوئی دفاع نہیں۔
عدالت کے مطابق، عادل راجہ کی جانب سے معافی کا بیان اگلے 28 دن تک سوشل میڈیا اکاونٹس اور ویب سائٹ پر مستقل طور پر جاری رہے گا۔