سرکاری ملازمین کے اثاثے عوام کے لیے قابلِ رسائی حکومت نے ضابطوں میں اہم ترمیم جاری کر دی

حکومت نے سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی شفافیت بڑھانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کے اثاثہ جاتی گوشوارے عوام کے لیے کھول دیے۔ تشکر نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق شہری اب کسی بھی سرکاری افسر کے ملازمت میں شامل ہونے سے آج تک کے تمام اثاثوں کا ریکارڈ دیکھ سکیں گے۔
ہانگ کانگ کے ہاؤسنگ اسٹیٹ میں ہولناک آگ 128 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

اس فیصلے کا اعلان جمعرات کو انکم ٹیکس نوٹیفکیشن ایس آر او 2263 کے ذریعے کیا گیا، جس کے تحت ’شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز، 2023‘ میں ترمیم کی گئی ہے۔

نئی ترمیم کے تحت ’پبلک سرونٹ‘ کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے ساتھ ساتھ خود مختار اداروں، سرکاری ملکیتی کمپنیوں اور کارپوریشنز کے ملازمین کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

مزید برآں، نیا قانون ان اہلکاروں پر لاگو نہیں ہوگا جنہیں نیب آرڈیننس 1999 میں استثنیٰ حاصل ہے۔

اس سے قبل یہ شرط صرف سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت کام کرنے والے افسران تک محدود تھی، جس کے باعث ہزاروں سرکاری و نیم سرکاری ملازمین اس دائرے سے باہر تھے۔

ترمیم کا بنیادی مقصد مختلف سرکاری سطحوں اور سرکاری ملکیتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک ہی اثاثہ افشا نظام میں لانا ہے تاکہ ملک میں احتساب کا عمل مزید شفاف، منظم اور جامع بنایا جا سکے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “سرکاری ملازمین کے اثاثے عوام کے لیے قابلِ رسائی حکومت نے ضابطوں میں اہم ترمیم جاری کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!