بدھ کی دوپہر ضلع تائی پو کے وانگ فُک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے تباہی مچا دی، جس نے 36 منزلہ آٹھ عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر گنجان آباد کمپلیکس کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شعلے اتنی تیزی سے پھیلے کہ رہائشیوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ روڈ پر دھرنا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی ملاقات نہ ہوسکی
فائر سروسز کے مطابق تقریباً 40 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جمعہ صبح 10 بجکر 18 منٹ پر آگ پر قابو پا کر آپریشن مکمل کر دیا گیا۔ حکام نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس میں عمارت کے گرد مرمتی کام کے دوران لگائی گئی بانس کی اسکیفولڈنگ اور پلاسٹک شیٹس کا جائزہ بھی شامل ہے۔
امدادی ٹیمیں ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشوں کی برآمدگی میں مصروف رہی۔ اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے صرف 15 منٹ میں چار لاشیں نکالی جاتے دیکھی جبکہ شاتِن کے مردہ خانے میں لاشوں کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں لواحقین دوپہر میں شناخت کے لیے پہنچے۔
حکام کے مطابق کئی افراد اب بھی لاپتا ہیں، جبکہ جمعہ تک 50 سے زائد زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ ان میں 12 کی حالت تشویشناک اور 28 کی حالت سنگین بتائی گئی ہے۔
شاتِن کے ایک ہسپتال میں موجود 38 سالہ خاتون وانگ اپنی بھابھی اور ان کے جڑواں بچوں کی تلاش میں بے چین تھیں۔ انہوں نے نمناک آنکھوں سے بتایا کہ بدھ کی دوپہر آخری رابطے کے بعد سے اہلِ خانہ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
77 سالہ عینی شاہد موئی کے مطابق، آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ 15 منٹ سے بھی کم وقت میں تین عمارتیں لپیٹ میں آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہر طرف سرخ شعلے تھے… سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔”
یہ واقعہ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کا سب سے ہلاکت خیز سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جب ایک دھماکے اور آگ میں کم ازکم 135 افراد جان سے گئے تھے۔
اینٹی کرپشن ادارے نے عمارت کی مرمت کے کام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ پولیس نے فوم پیکیجنگ بے احتیاطی سے چھوڑنے کے شبہے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ رہائشیوں نے شکایت کی کہ المیے کے دوران انہیں کوئی فائر الارم سنائی نہیں دیا اور لوگوں نے دروازے کھٹکھٹا کر پڑوسیوں کو خبردار کیا۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شہر کے تمام وہ رہائشی بلاکس کا معائنہ کرے گی جہاں بڑے مرمتی کام جاری ہیں، اور بانس کی بجائے آہنی اسکیفولڈنگ کے استعمال کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک 37 سالہ فائر فائٹر اور دو انڈونیشی گھریلو ملازمائیں بھی شامل ہیں۔ حکومت نے متاثرین کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کے امدادی فنڈ، 9 شیلٹرز، ہنگامی رہائش اور فوری مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔
آگ لگنے کے بعد حفاظتی طور پر نکالے گئے رہائشیوں کو اب گھروں میں واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
