امریکا کا سعودی عرب کو ایف35 لڑاکا طیارے دینے پر غور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا امکان

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے معاہدے پر غور کر رہا ہے، جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے آئندہ امریکا کے دورے سے قبل پینٹاگون کی اہم منظوری حاصل کر چکا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات دفاع زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ امریکی دفاعی پالیسی میں بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے فوجی توازن کو متاثر کرے گا اور اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنے کے امریکی مؤقف کے لیے ایک نیا امتحان بن جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون 48 ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ معاہدے کی تکمیل کے لیے کئی مراحل باقی ہیں جن میں کابینہ کی منظوری، صدر ٹرمپ کے دستخط اور کانگریس کو باضابطہ اطلاع دینا شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا پالیسی ڈپارٹمنٹ کئی ماہ سے اس معاہدے پر کام کر رہا ہے، جو اب وزارتِ دفاع کے سیکریٹری کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم پینٹاگون، وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خارجہ نے تاحال اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کے ترجمان نے کہا کہ فوجی سازوسامان کی فروخت حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے ہوتے ہیں، لہٰذا اس بارے میں واشنگٹن ہی سے رجوع کیا جائے۔

امریکا کی روایت رہی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو اس انداز میں ہتھیار فروخت کرتا ہے کہ اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رہے۔ اس وقت اسرائیل واحد ملک ہے جو ایف-35 طیاروں کا استعمال کر رہا ہے اور اس کے پاس ان کے کئی اسکواڈرن موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب طویل عرصے سے ایف-35 حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرے اور ایران سے درپیش ممکنہ خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ریاض کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ سعودی فضائیہ کے پاس پہلے ہی بوئنگ ایف-15، یوروفائٹر ٹائیفون اور ٹورنیڈو جیسے جنگی طیارے موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کو ایف-35 دینے کا امکان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے مشروط کیا تھا، مگر وہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ مئی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 142 ارب ڈالر مالیت کا دفاعی معاہدہ ہوا، جسے وائٹ ہاؤس نے امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی تعاون قرار دیا۔

تاہم کانگریس اس نئے ایف-35 معاہدے پر بھی سخت جانچ پڑتال کر سکتی ہے، خاص طور پر جمال خاشقجی قتل کیس کے بعد کئی امریکی قانون ساز ریاض کے ساتھ اسلحہ فروخت کے معاہدوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سعودی عرب اپنے وژن 2030 کے تحت فوجی و دفاعی خود انحصاری کی جانب گامزن ہے، تاہم اس نے امریکا کے ساتھ طویل المدتی سیکیورٹی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “امریکا کا سعودی عرب کو ایف35 لڑاکا طیارے دینے پر غور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا امکان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!