پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں محمود مولوی، عمران اسمٰعیل اور فواد چوہدری نے ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔
امریکا کا سعودی عرب کو ایف35 لڑاکا طیارے دینے پر غور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا امکان
تفصیلات کے مطابق تینوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی کوششوں کا مقصد قومی سیاست میں استحکام لانا اور سیاسی تلخیوں کو کم کرنا ہے۔ فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ "سیاسی ٹھہراؤ اور عمران خان سمیت سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے ہماری کوششوں کو ابتدائی کامیابیاں مل رہی ہیں، جن کے اثرات آئندہ 10 سے 15 دنوں میں نمایاں ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ، عمران اسمٰعیل اور محمود مولوی پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے متحرک ہیں، اور جلد فاصلے کم ہوتے دکھائی دیں گے۔
تاہم یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے گزشتہ روز کہا گیا کہ وہ "نہ حکومت سے بات کریں گے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے”۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کریں گے، جو "تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان” کے اتحادی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں نے حالیہ دنوں میں لاہور میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی کی، تاہم قریشی کے وکیل کے مطابق ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنما 9 مئی 2023 کے واقعات کے مقدمات میں گرفتار ہیں۔ اس روز ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں جناح ہاؤس اور جی ایچ کیو سمیت کئی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری اور دیگر سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی مفاہمتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
