سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ای چالان کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں شہریوں پر عائد بھاری جرمانوں کو غیر منصفانہ اور غیر متناسب قرار دیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے چھٹی بار وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی میں معمولی خلاف ورزیوں پر ہزاروں روپے کے جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جب کہ ملک کے دیگر حصوں خصوصاً لاہور میں یہی خلاف ورزیاں صرف 200 روپے جرمانے پر نمٹائی جاتی ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت سندھ نے جولائی 2025 سے کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کی ہے، جس میں شہری بمشکل اپنے اخراجات، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم پوری کر پاتے ہیں۔ ایسے میں بھاری جرمانے عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ای چالان نظام صوبے کے دیگر شہروں میں نافذ نہیں کیا گیا، جس سے کراچی کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ای چالان جرمانوں کے عمل کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ عدالت کو ان جرمانوں کے منصفانہ ہونے پر مطمئن کرے۔
درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈی جی نادرا کو فریق بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ سندھ نے سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم (ٹریکس) کا افتتاح کیا تھا، جسے عام طور پر ای چالان سسٹم کہا جاتا ہے۔
یہ نظام مصنوعی ذہانت سے مربوط سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے تیز رفتاری، سگنل توڑنے، ہیلمٹ نہ پہننے اور دیگر خلاف ورزیوں کو خودکار طور پر شناخت کرتا ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک 26 ہزار 609 ای چالان کیے جا چکے ہیں، جن میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 17,639، ہیلمٹ نہ پہننے پر 6,362، اوور اسپیڈنگ پر 1,967 اور سگنل توڑنے پر 1,655 چالان شامل ہیں۔
دیگر خلاف ورزیوں میں گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون استعمال کرنے پر 943، کالے شیشے لگانے پر 298، نو پارکنگ پر 165، غلط سمت میں گاڑی چلانے پر 162 اور ون وے کی خلاف ورزی پر 44 چالان شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق اب تک فینسی نمبر پلیٹ، اچانک لین بدلنے یا ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کسی کو چالان نہیں کیا گیا۔
