رونالڈ ریگن کا 1987 کا خطاب غلط انداز میں پیش ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات ختم کر دیے

آنجہانی سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا 1987 کا ریڈیو خطاب دراصل آزاد لیکن منصفانہ تجارت کے دفاع پر مبنی تھا، تاہم حال ہی میں اسے ایک جعلی اشتہار میں غلط انداز میں پیش کیے جانے پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانا اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے خطرناک رجحانات ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات اس وقت روک دیے گئے ہیں جب انہیں کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو سے نشر ہونے والے ایک جعلی اشتہار کے بارے میں بتایا گیا۔ اشتہار میں ریگن کو ٹیرف (درآمدی محصولات) کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

دوسری جانب، رونالڈ ریگن صدارتی فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اشتہار میں ریگن کے خطاب کے منتخب آڈیو اور ویڈیو حصے استعمال کیے گئے اور اصل پیغام کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

ریگن کا مذکورہ پانچ منٹ کا ریڈیو ایڈریس اس وقت دیا گیا تھا جب امریکہ نے جاپانی سیمی کنڈکٹر مصنوعات پر محصولات عائد کیے تھے۔ خطاب میں ریگن نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ جاپان کی جانب سے “تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکامی” کے باعث کیا گیا۔

ریگن نے اس موقع پر کہا تھا،

“ہم اپنے تجارتی شراکت داروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے معاہدوں پر قائم رہیں۔ جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے: آزاد تجارت کے لیے ہماری وابستگی دراصل منصفانہ تجارت کے لیے ہمارے عزم کا مظہر ہے۔”

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی کئی اختلافات کا شکار ہیں، بالخصوص ٹیرف پالیسیوں اور نارتھ امریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ (NAFTA) کی شرائط کے حوالے سے

59 / 100 SEO Score

One thought on “رونالڈ ریگن کا 1987 کا خطاب غلط انداز میں پیش ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات ختم کر دیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!