پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ان “خطرناک رجحانات” کا مؤثر طور پر مقابلہ کرے جن میں سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو ہتھیار بنانا، پوری برادریوں کی توہین اور مختلف خطوں میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے پسماندہ کرنا شامل ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کا ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 سے خطاب خطے کے اقتصادی و ڈیجیٹل روابط نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں”
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مندوب صائمہ سلیم نے کہا کہ ہمارے خطے میں ایسے انتہا پسندانہ نظریات کے المناک نتائج دیکھے جا رہے ہیں جو ثقافتی اور مذہبی تنوع کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں امتیازی شہریت کے قوانین، عبادت گاہوں پر حملے، نفرت انگیز بیانیے، نسل کشی کے مطالبات اور اقلیتوں کے خلاف سرکاری سطح پر نفرت پر مبنی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسلامو فوبیا، عدم برداشت اور دائیں بازو کی انتہا پسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان اقلیتیں بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے رویے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن و ترقی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اپنے کلیدی کردار کو مؤثر انداز میں ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئینِ پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا حصہ ہے، جو تمام شہریوں کے لیے مساوات، انصاف اور مذہبی آزادی پر یقین رکھتے تھے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے اقلیتوں کی شمولیت اور وقار کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دیا ہے، جس میں قومی کمیشن برائے انسانی و اقلیتی حقوق شامل ہے، جبکہ اقلیتوں کو پارلیمنٹ اور بلدیاتی اداروں میں مخصوص نمائندگی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلاحی فنڈز، وظائف، عبادت گاہوں کی بحالی اور امتیازی سلوک کے ازالے کے لیے عدالتی و انتظامی نظام پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے ذریعے سماجی ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
