وزیرِاعظم شہباز شریف نے ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن ایک نہایت اہم موقع ہے جب ہم سب ایک بامقصد مکالمے کے لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ اور کثیرالطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔
وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان تاریخی طور پر ایک ایسے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے قدیم شاہراہِ ریشم سے لے کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) تک مختلف اقوام کی ثقافتوں، روایات، اشیاء اور نظریات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ہمیشہ مواقع اور روابط کا مرکز رہا ہے، اور موجودہ جغرافیائی و معاشی تبدیلیوں نے ان تاریخی راہداریوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ اور کنیکٹیویٹی کے نظام تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان ان تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مرکز کے طور پر نمایاں کرتا ہے، جب کہ گوادر بندرگاہ اور کراچی پورٹ کو میری ٹائم سلک روڈ کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ٹرانس افغان راہداری اور اسلام آباد-تہران-استنبول ریلوے کوریڈور پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جو علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں میں انقلاب برپا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تجارت، توانائی اور معیشت کے شعبوں میں باہمی تعاون ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ ڈیجیٹل دور میں روابط محض سڑک، ریل یا فضائی راستوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ان کا اہم جزو بن چکا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نوجوان نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
