وفاقی وزارتِ داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 11B(1) کے تحت کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے نزدیک ٹی ایل پی دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے، لہٰذا اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست (شیڈول ون) میں شامل کیا جا رہا ہے۔
Friday, 24th October 2025
نوٹیفکیشن کی کاپیاں چاروں صوبوں کے گورنرز، چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور تمام خفیہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں، جبکہ نیکٹا، ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کے بینک اکاؤنٹس منجمند کر دیے جائیں گے، جماعت کسی سیاسی یا سماجی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گی، اور تنظیم کا نام یا نشان استعمال کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ وزارتِ داخلہ نے یہ اقدام تنظیم کے دہشت گردی سے مبینہ روابط کے شواہد کی بنیاد پر کیا ہے۔
ٹی ایل پی پر پابندی کے فیصلے کی توثیق کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز پنجاب حکومت کی سفارش پر ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی تھی۔ کابینہ اجلاس میں پنجاب کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور تنظیم کی پرتشدد کارروائیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق 2016 میں قائم ہونے والی ٹی ایل پی نے متعدد مواقع پر ملک گیر سطح پر بدامنی پھیلائی۔ 2021 میں بھی اس تنظیم پر پابندی عائد کی گئی تھی جو بعد ازاں اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم تنظیم نے دوبارہ ضمانتوں سے روگردانی کی۔
حالیہ دنوں میں ٹی ایل پی نے غزہ کے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 10 اکتوبر کو لاہور سے احتجاجی مارچ شروع کیا تھا اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ مریدکے اور سادھوکے میں دھرنوں کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک پولیس افسر اور تین ٹی ایل پی کارکن شامل تھے۔
وزیرِ مملکت طلال چوہدری کے مطابق گرفتار مظاہرین سے شیشے کی گولیاں، نقصان دہ کیمیکل، ڈنڈے، گنز اور آنسو گیس کے گولے برآمد ہوئے، جو پرامن احتجاج کی تردید کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے سرکاری گاڑیاں، دکانیں اور املاک کو نذرِ آتش کیا، جبکہ کئی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ بھی کی گئی۔
وفاقی کابینہ نے تمام شواہد اور بریفنگ کا جائزہ لینے کے بعد متفقہ طور پر ٹی ایل پی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کی منظوری دے دی۔
