لاہور: پنجاب میں حالیہ سیلاب نے دریاؤں کے کنارے واقع 22 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو متاثر کیا ہے، جس سے سب سے زیادہ نقصان چاول کی فصل کو پہنچا ہے۔ صوبائی اداروں نے زرعی نقصانات کے تازہ اعداد و شمار وفاقی حکومت کو فراہم کر دیے ہیں۔
سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے منی بجٹ کی تیاری، لگژری گاڑیوں اور سگریٹس پر نیا ٹیکس تجویز
ذرائع کے مطابق پنجاب میں 10 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی چاول کی فصل تباہ ہوئی ہے، جب کہ ڈھائی لاکھ ایکڑ پر کاشت گنے کی فصل بھی متاثر ہوئی۔ مکئی اور کپاس کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر سندھ میں پیاز کی پیداوار کا تین فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلابی پانی تاحال دریائی حدود سے باہر نہیں نکلا، جس کے باعث وہاں صرف کچے کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔
پنجاب کے برعکس سندھ میں بڑے پیمانے پر زرعی نقصانات ریکارڈ نہیں ہوئے۔ تاہم پنجاب کے متعدد اضلاع کو آفت زدہ قرار دیے جانے کا امکان ہے، جن میں حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات اور ملتان شامل ہیں۔ ان اضلاع کے کسانوں کو ٹیکس اور آبیانہ معاف کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
