پاکستان کی اسٹریٹجک بندرگاہیں خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جا رہی ہیں اور ان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات نے امریکا اور قازقستان کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
کراچی: شہریوں سے لوٹ مار اور پولیس مقابلے میں گرفتار ملزم کو 27 سال قید کی سزا
امریکی وفد نے وزارتِ بحری امور کا دورہ کیا، جہاں وفاقی سیکریٹری سید ظفر علی شاہ نے پاکستان کی بندرگاہوں کی سہولتوں، آپریشنل استعداد اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ کراچی پورٹ ملک کی 54 فیصد تجارت کو سنبھالتا ہے اور اس کی سالانہ گنجائش 12 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہے، جب کہ عالمی رینکنگ میں اس کی پوزیشن بہتر ہو کر 405 کنٹینر بندرگاہوں میں 61ویں نمبر پر آگئی ہے۔
امریکی وفد نے خاص طور پر پورٹ قاسم میں ایل این جی ٹرمینلز اور بلک کارگو ہینڈلنگ میں دلچسپی ظاہر کی اور پاکستانی بندرگاہوں کو معیشت کے لیے کلیدی اثاثہ قرار دیا۔
اسی دوران قازق وزیرِ ٹرانسپورٹ نورلان سواران بائیف کی قیادت میں ایک وفد نے بھی وزارتِ بحری امور میں پاکستانی حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سمندری تعاون بڑھانے اور وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب سے جوڑنے والے ٹرانسپورٹ کوریڈورز پر گفتگو ہوئی۔
وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر، وسطی ایشیائی تجارت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور قازقستان سی پیک کے تحت کنٹینر ہینڈلنگ، لاجسٹکس اور آف ڈاک ٹرمینلز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
