دریاؤں کے قدرتی راستوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی اعلان

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دریاؤں کے قدرتی راستوں پر قائم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے بلاتفریق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت نے ستلج میں پانی چھوڑ دیا، ملتان اور گردونواح میں بڑے سیلاب کا خطرہ

چوہنگ میں الخدمت فاؤنڈیشن کی خیمہ بستی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ جعلی این او سی حاصل کرکے دریائی زمین پر تعمیر کی گئی سوسائٹیاں ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہی ہیں اور سیلاب کے دوران انسانی جانوں اور کھیتوں کو شدید خطرات میں ڈال رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی منظم انداز میں ریلیف سرگرمیاں انجام دے رہی ہے، خواتین اور یوتھ ونگ بھی متاثرین کی بحالی کے کاموں میں شریک ہیں۔

حافظ نعیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے پیشگی حکمتِ عملی اپنائی جاتی تو آج یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ اگر بروقت ڈیمز تعمیر کیے جاتے اور وارننگ سسٹم مؤثر بنایا جاتا تو سیلاب کی شدت کم کی جاسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر بحث ایک طرف، لیکن دیگر ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ پاکستان میں چند مہینوں کے دوران پانی کی دستیابی 84 فیصد تک بڑھ جاتی ہے لیکن ذخیرہ نہ ہونے کے باعث ضائع ہو جاتی ہے، جبکہ دیگر مہینوں میں قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق حالیہ سیلاب نے چاول اور گندم کی فصلوں کو تباہ کردیا ہے، جس کے باعث زرعی بحران اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا کے بجائے مہنگائی کنٹرول کرنے پر توجہ دیتے تو عوام کو ریلیف مل سکتا تھا۔

حافظ نعیم نے مزید کہا کہ نجی سوسائٹیاں میڈیا پر دعوے کر رہی ہیں کہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ انہیں این او سی کس نے دیا اور اس کا محاسبہ کون کرے گا؟

60 / 100 SEO Score

One thought on “دریاؤں کے قدرتی راستوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!