ملتان: بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد بڑے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے، ملتان میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی اور شیر شاہ بند پر ممکنہ شگاف کے باعث رات گئے سے مقامی آبادی نقل مکانی کر رہی ہے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کے وار، 24 گھنٹوں میں 12 نئے مریض رپورٹ
رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ تریموں سے 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک پانی کا ریلا ملتان کی حدود میں داخل ہوچکا ہے جبکہ ہیڈ محمد والا پر بھی پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بھارت نے وزارتِ آبی وسائل کو اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے آگاہ کیا۔ بھارتی ہائی کمیشن نے صبح 8 بجے ہائی فلڈ الرٹ جاری کیا، جس کے بعد دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور اس وقت ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ محکمے نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ انہار کی گیچ 413.40 سے تجاوز کرگئی ہے، پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے شیر شاہ بند کو دھماکے سے اڑا کر بریچ کیا جائے گا۔ اس اقدام سے 20 سے زائد دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایم این اے عبدالقادر گیلانی اور علی قاسم گیلانی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔ رات گئے سے شیر شاہ کے نزدیک بستیوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی بند کے قریب رہنے والی آبادیوں سے فوری انخلا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو شیر شاہ، گگرا کچور، موضع ہمر اور قریبی علاقوں کی طرف موڑنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ دباؤ کو توڑا جا سکے اور شہری علاقوں کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔
اگلے 48 گھنٹوں میں آبی ریلا ملتان کی جانب بڑھے گا جس سے شہر کے لیے صورتحال نہایت تشویشناک ہو سکتی ہے۔
