اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے مالی سال 26-2025 کے لیے اپنی ریونیو ضرورت میں 91 فیصد اضافے کی درخواست دی ہے، جس کے نتیجے میں پن بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
سندھ میں ممکنہ سیلاب کا خطرہ، فوج اور رینجرز کا پیشگی حفاظتی اقدامات کا آغاز
واپڈا نے اپنی ریونیو ضرورت 191 ارب روپے (23-2022) سے بڑھا کر 365 ارب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق اس سے پن بجلی کا بَلک ریٹ 90 فیصد بڑھ سکتا ہے، جو فی یونٹ 6 روپے 10 پیسے سے بڑھ کر 11 روپے 55 پیسے تک پہنچ جائے گا۔
واپڈا نے اضافی 174 ارب روپے کے ریونیو کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں 23-2022 کے 22.35 ارب روپے، 24-2023 کے 56 ارب روپے اور 25-2024 کے 61 ارب روپے کے غیر حل شدہ خسارے شامل ہیں۔
مجموعی ریونیو ضرورت میں صوبوں اور آزاد کشمیر کے لیے خالص منافع اور آبی استعمال کے چارجز بھی شامل ہیں۔ ان میں خیبر پختونخوا کے لیے 29.53 ارب روپے، پنجاب کے لیے 11.70 ارب روپے اور آزاد کشمیر کے لیے 5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) 11 ستمبر کو عوامی سماعت کرے گی، جس میں واپڈا کے ان مطالبات کا جائزہ لیا جائے گا۔ واپڈا نے او اینڈ ایم اخراجات میں بھی اضافہ تجویز کیا ہے جو 23-2022 کے 24 ارب روپے سے بڑھا کر 26-2025 میں 39.59 ارب روپے کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں بجلی منصوبوں پر سرمایہ کاری کی واپسی، ڈبلیو اے سی سی (Weighted Average Cost of Capital) کی بنیاد پر، بھی شامل ہے جس کے تحت واپڈا نے 26-2025 میں تقریباً 100 ارب روپے تک کے منافع کا تخمینہ لگایا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق واپڈا کی مجموعی بجلی پیداوار 26-2025 میں 31,563 گیگا واٹ آور متوقع ہے، جو 23-2022 کے 31,286 گیگا واٹ آور سے معمولی زیادہ ہے۔
ایک اہم تجویز کے تحت واپڈا نے 20 میگا واٹ بجلی ماری انرجی کے ایک خصوصی منصوبے (اسکائے 47) کے لیے مختص کرنے کا کہا ہے تاکہ اسے اسٹریٹیجک اور کمرشل ڈیٹا سینٹرز میں استعمال کیا جا سکے۔ یہ تجویز مقابلتی تجارتی دو طرفہ معاہدہ جاتی مارکیٹ (CTBCM) کے تحت دی گئی ہے۔
