کراچی (یکم ستمبر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں بڑے پیمانے پر پانی چھوڑے جانے کے بعد سندھ میں سپر فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل تیار ہے اور آٹھ سے گیارہ لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔
نیو سندھ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے پانچ ستمبر کے قریب گڈو بیراج پر آٹھ سے گیارہ لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، جس میں نو لاکھ سے زائد کا بہاؤ سپر فلڈ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ آئندہ 10 سے 15 دن بحفاظت گزارنے پر مرکوز ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پشتوں کو مزید بلند اور مضبوط کیا گیا ہے جبکہ ہر چوتھائی میل پر نگرانی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں عملہ 24 گھنٹے مستعد ہے۔ حساس مقامات پر بھاری مشینری موجود ہے اور کے کے بند پر بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پی ڈی ایم اے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ دیہاتوں کے رہائشیوں اور مویشی مالکان کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت کو بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر ایک جامع ماحولیاتی پالیسی بنانی چاہیے تاکہ پاکستان مستقبل میں قدرتی آفات سے بہتر طور پر نمٹ سکے۔
وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ 2010 اور 2022 کے سیلاب کے تلخ تجربات کے بعد سندھ حکومت نے اپنے بندوں کو مضبوط بنایا ہے اور آج ہم نو لاکھ دس ہزار کیوسک تک کے بہاؤ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پنجاب کے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی دعائیں اور تعاون ان کے ساتھ ہیں۔
