کراچی (اسٹاف رپورٹر) پنجاب سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے 5 ستمبر سے سندھ میں داخل ہونا شروع ہوں گے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سندھ کے بیراجوں سے 10 لاکھ کیوسک تک کا ریلا گزر سکتا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق 5 ستمبر کو سیلابی ریلا گڈو بیراج پہنچے گا۔ اس وقت گڈو بیراج پر درمیانے درجے اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، تاہم صورتحال تیزی سے سنگین ہوسکتی ہے۔
بیراج انتظامیہ اور این ڈی ایم اے کے مطابق گڈو سے سکھر تک کے حساس حفاظتی پشتوں کی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔ ان میں عاقل آگانی بند، قادرپور لوپ بند، توڑی بند اور علی واہن بند سب سے زیادہ خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے کے پیش نظر سندھ بھر میں ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ بروقت انخلا اور امدادی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔