پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ راولا کوٹ کے نواحی گاؤں دھکی بسنیار کوئیاں کے رہائشی محمد عبید جہانگیر کے خلاف درج ایف آئی آر کو اس کی گرفتاری کے بعد تفتیشی عمل آسان بنانے کے لیے خفیہ رکھا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ عمران خان کو 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت مل گئی
پولیس کے مطابق ملزم کو 23 جولائی کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کر کے مظفرآباد کے صدر تھانے منتقل کیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد عبید جہانگیر بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کرتا رہا اور بھاری رقوم کے عوض حساس تنصیبات کی تصاویر اور معلومات فراہم کرتا رہا۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے مظفرآباد کے علاقے شاوی میں قائم بلال مسجد کی تصاویر اور جی پی ایس لوکیشن بھی واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے بھیجی تھی۔ واضح رہے کہ اسی مسجد کو 6 مئی کی رات بھارتی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ عمل پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کی سلامتی کے خلاف تھا اور 1923 کے آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی دفعہ 3/3 اے کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 54 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سی ٹی ڈی مظفرآباد کے فیلڈ انویسٹی گیشن یونٹ کے انچارج اے ایس آئی مشتاق احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایس ایچ او صدر نوید الحسن کے مطابق ابتدائی تفتیش مکمل ہونے تک ملزم کے خلاف ایف آئی آر کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 6 مئی 2025 کو بھارت نے مظفرآباد سمیت پاکستان کے چھ مقامات پر 24 حملے کیے تھے جن میں 8 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے تھے۔
