بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا حکم کوئٹہ میں 2 گھنٹے میں موبائل انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم

بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کوئٹہ میں 2 گھنٹے کے اندر انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
راولا کوٹ کا شہری بھارتی ایجنسی کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار

درخواست چئیرمین کنزیومر سوسائٹی خیرمحمد کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ موبائل ڈیٹا کی بندش شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی احکامات کے بعد صوبے کے مختلف شہروں میں 15 روز بعد موبائل انٹرنیٹ سروس مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہوگئی۔ پشین، چمن اور کوئٹہ کے بعض علاقوں میں 3G اور 4G سروس کی فراہمی دوبارہ شروع کردی گئی۔

یاد رہے کہ صوبائی وزارتِ داخلہ نے 6 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 31 اگست تک انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا تھا کہ دہشت گرد انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے، اسی وجہ سے سروس معطل کی گئی تھی۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا حکم کوئٹہ میں 2 گھنٹے میں موبائل انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!