واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تجارتی تعلقات میں عدم توازن پر شدید تنقید کی ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی ٹیرف پالیسی میں نرمی نہ کی تو امریکا 20 سے 25 فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔
اقبال احمد ڈیتھو کے خلاف شکایت پر صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، فیصلہ محفوظ
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: "بھارت میرا دوست ہے، لیکن وہ تقریباً ہر ملک سے زیادہ ٹیرف لگاتا ہے۔” انہوں نے انکشاف کیا کہ اُن کے دباؤ پر بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ ختم کی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تاحال کوئی حتمی تجارتی ڈیل نہیں ہو سکی۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے بعض معاملات میں اچھا تعاون کیا ہے، لیکن تجارتی تعلقات میں پیچیدگیاں برقرار ہیں۔ اُن کے مطابق بھارت امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کو اپنی پالیسی سخت کرنا پڑ سکتی ہے۔
ان بیانات سے امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات اس تناظر میں کلیدی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
