کراچی (رپورٹ: روزنامہ تشکر) — سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بھر میں وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے ڈائریکٹر جنرل، شاہ میر خان بھٹو نے 29 جولائی کو تمام اضلاع میں بلڈرز اور پلاٹ مالکان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان احکامات کے تحت سات دن کے اندر تمام ریجنز سے کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔
ایس بی سی اے کا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا اقدام: بلڈرز اور مالکان کے خلاف ایف آئی آر کا حکم
ڈسٹرکٹ سینٹرل میں حالیہ کامیاب کارروائی کے بعد اب پورے کراچی میں “ڈاکٹر عاصم و فرحان راوت فارمولے” پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فارمولے کے ذریعے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 90 فیصد سے زائد غیر قانونی تعمیرات روکی گئی تھیں، اور اب یہی ماڈل دیگر اضلاع میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایس بی سی اے کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ:
غیر قانونی تعمیرات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کی دفعہ 19 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت ایف آئی آرز درج کی جائیں۔
تمام شواہد — نوٹسز، تصویری مواد، انسپکشن رپورٹس اور نقشے — ایف آئی آر کے ساتھ منسلک کیے جائیں۔
صرف متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے دستخط شدہ نوٹسز قابل قبول ہوں گے، غیر موجودگی کی صورت میں ڈائریکٹر دستخط کریں گے۔
سات دن میں کارروائی پر مبنی رپورٹ ڈی جی آفس میں جمع کرانا لازمی ہوگی۔
احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں اعتراف کیا گیا ہے کہ متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بھی بن چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگست میں ڈاکٹر عاصم حسین ایک بار پھر متحرک ہوں گے، اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں متوقع ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کے اندر موجود بدعنوان عناصر اور بااثر بلڈرز کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شہری حلقے موجودہ اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس آپریشن سے نہ صرف غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ہوگا بلکہ ایس بی سی اے کی ساکھ بھی بحال ہو گی۔
