قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 5 اگست کو پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل، خاتون کی قبر کشائی ڈی این اے نمونے حاصل 7 ملزمان گرفتار
عمر ایوب نے کہا کہ حکومت نے پہلے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کی، پھر 5 لاکھ ٹن برآمد کر دی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ڈیڑھ ہزار روپے کا بجلی کا بل 15 ہزار تک جا پہنچا ہے، جب کہ پیٹرول، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ دونوں کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں شہریوں پر فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے، یہ واضح کیا جائے کہ نہتے عوام پر فائرنگ کس نے کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام پر فائرنگ کا ردعمل انتہائی خراب ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں عسکری آپریشن کی مخالفت کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ رانا ثناء اللہ پہلے اپنے اوپر لگے منشیات کیس کا حساب دیں، پھر دوسروں پر تنقید کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رانا ثناء یا تو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) سے معافی مانگیں یا ڈی جی اے این ایف سے ثبوت طلب کریں۔
انہوں نے محسن نقوی پر الزام لگایا کہ وہ نگران حکومت کے دور میں 450 ارب روپے کی گندم کی درآمد کے کیس میں ملوث ہیں، اور اس معاملے پر نیب کو کارروائی کرنی چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 5 اگست کو ہونے والا احتجاج پرامن ہوگا اور اس میں دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی شریک ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی تیاری مکمل ہے اور اس کا لائحہ عمل دو سے تین روز میں جاری کر دیا جائے گا۔
