نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے فیصل آباد کے علاقے چک 54-آر بی، سروہلی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک جعلی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 149 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 48 چینی شہری بھی شامل ہیں۔
شاہ لطیف پولیس کی بڑی کارروائی بین الصوبائی موٹر سائیکل لفٹنگ گینگ گرفتار سرغنہ غلام نبی بھی دھر لیا گیا
کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والوں میں 78 پاکستانی، 18 خواتین، اور دیگر ممالک جیسے نائجیریا، فلپائن، سری لنکا، بنگلہ دیش، زمبابوے اور میانمار کے 23 شہری شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق یہ جعلی کال سینٹر بین الاقوامی سطح پر پونزی اسکیمز اور آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ میں ملوث تھا۔ ملزمان شہریوں کو واٹس ایپ گروپس کے ذریعے جعلی فری لانسنگ کمپنیوں کے جھانسے میں لاتے تھے۔
لوگوں کو یوٹیوب یا ٹک ٹاک چینلز کو سبسکرائب کرانے جیسے چھوٹے کام دے کر لالچ دیا جاتا تھا، جس کے بعد انہیں سرمایہ کاری پر مجبور کیا جاتا اور آخرکار بلیک میلنگ و دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا جاتا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فراڈ نیٹ ورک کا تعلق فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) کے سابق چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز، ملک تحسین اعوان سے ہے، جو چھاپے کے وقت موقع سے فرار ہو گئے۔
گرفتار ملزمان کو 8 جولائی 2025 کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پاکستانی ملزمان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ واقعے کے حوالے سے فراڈ اور جعلسازی کے الزامات پر سات مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جب کہ بین الاقوامی سطح پر تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے بین الاقوامی مالیاتی فراڈ کے ایک منظم نیٹ ورک کو توڑا گیا ہے، جو طویل عرصے سے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔
