جنوبی ایشیا سلامتی کے شدید بحران کا شکار ہے امن کا کوئی شارٹ کٹ نہیں جنرل ر زبیر محمود حیات

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق سربراہ جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا اس وقت شدید سلامتی بحران سے دوچار ہے، جہاں نہ سرحدیں محفوظ ہیں اور نہ ہی سائبر سیکیورٹی کا مؤثر نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور سلامتی کے حصول کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔
لورالائی حملہ پاکستان کے امن پر حملہ ہے دشمن فرقہ واریت پھیلانا چاہتا ہے بلوچستان حکومت

ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ صرف کرائسز مینجمنٹ سسٹم کا فقدان ہے بلکہ سیاسی، ثقافتی، معاشی اور کھیلوں کے شعبوں میں بھی کوئی مثبت تبادلہ نہیں ہو رہا، جو کہ خطے میں اعتماد سازی کے لیے نہایت اہم ہے۔

جنرل (ر) زبیر نے خطے میں جاری جیوپولیٹیکل تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی داخلی صورتحال بھی جنوبی ایشیا پر اثر انداز ہو رہی ہے، جب کہ امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں اس خطے میں اپنی موجودگی مزید بڑھا دی ہے، جس سے طاقت کا توازن مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے 1979 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان پر حملہ کرنے والا روس آج سب سے پہلے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا ملک بن چکا ہے، جو خطے میں بڑی تبدیلیوں اور عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کو بھارت کی جانب سے تخلیق کردہ کم از کم پانچ بڑے عسکری بحرانوں کا سامنا رہا ہے، لیکن ان بحرانوں کے بعد امن کی جانب پیشرفت کے بجائے سلامتی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے علاقائی خودمختاری، قوموں کی شناخت کا احترام اور باہمی اعتماد سازی بنیادی نکات ہیں۔ جب تک ان اصولوں کو عملی طور پر نہیں اپنایا جاتا، جنوبی ایشیا میں امن محض ایک خواب ہی رہے گا۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا کہ خطہ اس وقت غیر یقینی، کشیدگی اور مسلسل عدم استحکام کے دور سے گزر رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط اور ہم آہنگ علاقائی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “جنوبی ایشیا سلامتی کے شدید بحران کا شکار ہے امن کا کوئی شارٹ کٹ نہیں جنرل ر زبیر محمود حیات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!