خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں ناوگئی روڈ پر صدیق آباد پھاٹک کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل سلطان سمیت پانچ افراد شہید جبکہ 11 زخمی ہو گئے۔
شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا خیبر پختونخوا سے کیسز کی تعداد 8 ہو گئی
ڈی پی او باجوڑ وقاص احمد خان کے مطابق دھماکہ تھانہ خار کی حدود میں میلہ گراؤنڈ کے قریب اس وقت ہوا جب اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ حملے میں شہید ہونے والوں میں تحصیلدار وکیل، اے ایس آئی نو حکیم، کانسٹیبل رشید اور ایک نامعلوم شہری شامل ہیں۔ شہداء کے جسد خاکی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کر دیے گئے ہیں۔
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق بم ریموٹ کنٹرول کے ذریعے نصب کیا گیا تھا اور نشانہ مخصوص سرکاری افسران تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ اسپتال خار منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکومتی ردعمل
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور پولیس اہلکاروں کی شہادت قومی نقصان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور لواحقین کے ساتھ حکومت مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جب کہ زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور صوبے میں امن قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
