پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل میں قید پانچ سینئر رہنماؤں نے پارٹی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی زیرِ قیادت وفاقی حکومت سے ’بامعنی سیاسی مذاکرات‘ کا آغاز کرے، تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی بحرانوں سے نکالا جا سکے۔
گونزالو گارسیا کا فیصلہ کن گول ریال میڈرڈ یووینٹس کو شکست دے کر کلب ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں داخل
منگل کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے تحریر کیے گئے مشترکہ خط میں پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے پارٹی کے سرپرست عمران خان کے اس مؤقف سے اختلاف ظاہر کیا جس میں وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے خواہاں ہیں۔
‘مذاکرات کا آغاز سیاسی قیادت سے ہو’
رہنماؤں نے زور دیا کہ مذاکرات کا نقطۂ آغاز سیاسی قیادت ہونی چاہیے، جس کے بعد مقتدر قوتوں سے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ڈاکٹر یاسمین راشد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینی چاہیے تاکہ مذاکراتی حکمتِ عملی اور کمیٹی کی تشکیل پر مشاورت کی جا سکے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد دیگر رہنماؤں سے علیحدہ بیرک میں قید ہیں، اس لیے خط کے مندرجات میں ان کی شمولیت سوالات کو جنم دیتی ہے، تاہم نام ان کے شامل ہونے سے پیغام یہ ہے کہ وہ بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
‘پیشکش کو غیر سنجیدہ نہ لیا جائے’
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں میں موجود بعض عناصر ان کی مذاکراتی تجویز کو سنجیدگی سے لیں، بصورتِ دیگر پورا عمل سبوتاژ ہو سکتا ہے۔
عمران خان کا واضح مؤقف
یاد رہے کہ عمران خان متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف اُن سے مذاکرات کریں گے "جن کے پاس اصل اختیار ہے”، یعنی عسکری قیادت۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت کی سیاسی قیادت کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔
پارٹی کے اندر اختلافات اور مائنس عمران تاثر
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب خیبرپختونخوا حکومت نے عمران خان کی منظوری کے بغیر مالی سال 26-2025 کا بجٹ پیش کیا۔
اس پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں ’مائنس عمران‘ فارمولا نافذ ہو چکا ہے۔
پارٹی کو سیاسی لچک کی ضرورت
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے تشکر نیوز کو بتایا کہ خان صاحب کو وقتی طور پر اپنے مؤقف میں نرمی لانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لیے اس وقت مزاحمتی حکمتِ عملی کے بجائے سیاسی مذاکراتی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ بطور موثر سیاسی قوت اپنا کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے جیل میں موجود رہنماؤں کی جانب سے مذاکراتی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ عمران خان اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔
