پینٹاگون نے یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں اور درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کی کچھ کھیپ عارضی طور پر روک دی ہے، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس سے امریکہ کے اپنے دفاعی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے واقف ذرائع نے منگل کو تصدیق کی۔
بجلی کی قیمت میں معمولی کمی، نیپرا نے نئے ٹیرف کی منظوری دے دی صنعتکاروں کا احتجاج
سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران یوکرین کو مسلسل ہتھیار فراہم کیے جا رہے تھے، تاہم اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پالیسی پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔ پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کو یوکرین کے لیے امداد جاری رکھنے کے اختیارات فراہم کر رہا ہے، مگر ساتھ ہی امریکی دفاعی تیاری کو برقرار رکھنے کے لیے ترسیلات میں رد و بدل پر غور کیا جا رہا ہے۔
پالیسی کے انڈر سیکریٹری ایلبریج کولبی نے کہا کہ "محکمہ دفاع اپنے نقطہ نظر کا سختی سے جائزہ لے رہا ہے اور موجودہ صورت حال کے مطابق اسے ڈھال رہا ہے تاکہ روس کے خلاف یوکرین کی مزاحمت بھی جاری رہے اور امریکی افواج کی تیاری میں بھی کمی نہ آئے۔”
ذرائع کے مطابق، جن ہتھیاروں کی ترسیل معطل کی گئی ہے ان میں فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز بھی شامل ہیں، جو روسی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں بھی امداد کو وقتی طور پر معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد مارچ میں طویل وقفہ آیا۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے بعد ازاں بائیڈن دور کی منظوری کے تحت آخری امداد کی کھیپ بھیجنے کا عمل دوبارہ شروع کیا۔
فی الحال کسی نئی پالیسی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا، مگر واشنگٹن میں یوکرین پالیسی پر خاموش تبدیلیاں واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہیں۔
ادھر روس نے یوکرین کے مزید علاقوں پر قبضہ مضبوط کیا ہے، خاص طور پر ڈونیٹسک اور دنیپروپیٹروسک کے علاقوں میں زمینی پیش رفت کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔
منگل کو امریکی میڈیا ادارے "پولیٹیکو” نے اس تاخیر کی خبر بریک کی، جس کے بعد واشنگٹن میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا امریکہ اب یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد میں کمی کی جانب بڑھ رہا ہے؟
